EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دیتا رہا وہ گالیاں اور میں رہا خموش
پھر یوں ہوا کہ وہ مرے قدموں میں گر گیا

بشیر مہتاب




گونجوں گا تیرے ذہن کے گنبد میں رات دن
جس کو نہ تو بھلا سکے وہ گفتگو ہوں میں

بشیر سیفی




خود اپنی ہی گہرائی میں
آخر کو غرقاب ہوئے ہم

بشیر سیفی




تیرے نام کا تارا جانے کب دکھائی دے
اک جھلک کی خاطر ہم رات بھر ٹہلتے ہیں

بشیر سیفی




عہد کے ساتھ یہ بھی ہو ارشاد
کس طرح اور کب ملیں گے آپ

بشیر الدین احمد دہلوی




بندھن سا اک بندھا تھا رگ و پے سے جسم میں
مرنے کے بعد ہاتھ سے موتی بکھر گئے

بشیر الدین احمد دہلوی




چراغ اس نے بجھا بھی دیا جلا بھی دیا
یہ میری قبر پہ منظر نیا دکھا بھی دیا

بشیر الدین احمد دہلوی