دیتا رہا وہ گالیاں اور میں رہا خموش
پھر یوں ہوا کہ وہ مرے قدموں میں گر گیا
بشیر مہتاب
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
گونجوں گا تیرے ذہن کے گنبد میں رات دن
جس کو نہ تو بھلا سکے وہ گفتگو ہوں میں
بشیر سیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خود اپنی ہی گہرائی میں
آخر کو غرقاب ہوئے ہم
بشیر سیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تیرے نام کا تارا جانے کب دکھائی دے
اک جھلک کی خاطر ہم رات بھر ٹہلتے ہیں
بشیر سیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
عہد کے ساتھ یہ بھی ہو ارشاد
کس طرح اور کب ملیں گے آپ
بشیر الدین احمد دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بندھن سا اک بندھا تھا رگ و پے سے جسم میں
مرنے کے بعد ہاتھ سے موتی بکھر گئے
بشیر الدین احمد دہلوی
چراغ اس نے بجھا بھی دیا جلا بھی دیا
یہ میری قبر پہ منظر نیا دکھا بھی دیا
بشیر الدین احمد دہلوی

