EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اب کے تعبیر مسئلہ نہ رہے
یہ جو دنیا ہے اس کو خواب کرو

بکل دیو




اور کچھ دیر غم نظر میں رکھ
کیا خبر مل ہی جائے تھاہ کہیں

بکل دیو




بعد مدت یہ جلا کس کے ہنر نے بخشی
بعد مدت مرے آئینے میں چہرہ آئے

بکل دیو




ایک نشہ ہے خود نمائی بھی
جو یہ اترے تو پھر تجھے دیکھوں

بکل دیو




ہم جو ٹوٹے ہیں بتا ہار بھلا کس کی ہوئی
زندگی تیری اٹھائی ہوئی سوگند تھے ہم

بکل دیو




ہمیں اس طرح ہی ہونا تھا آباد
ہمارے ساتھ ویرانے لگے ہیں

بکل دیو




ہوس شامل ہے تھوڑی سی دعا میں
ابھی اس لو میں ہلکا سا دھواں ہے

بکل دیو