EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جا بجا ہم کو رہی جلوۂ جاناں کی تلاش
دیر و کعبہ میں پھرے صحبت رہباں میں رہے

بہرام جی




کہیں خالق ہوا کہیں مخلوق
کہیں بندہ کہیں خدا دیکھا

بہرام جی




کہتا ہے یار جرم کی پاتے ہو تم سزا
انصاف اگر نہیں ہے تو بیداد بھی نہیں

بہرام جی




میں برہمن و شیخ کی تکرار سے سمجھا
پایا نہیں اس یار کو جھنجھلائے ہوئے ہیں

بہرام جی




نہیں بت خانہ و کعبہ پہ موقوف
ہوا ہر ایک پتھر میں شرر بند

بہرام جی




نہیں دنیا میں آزادی کسی کو
ہے دن میں شمس اور شب کو قمر بند

بہرام جی




پتا ملتا نہیں اس بے نشاں کا
لیے پھرتا ہے قاصد جا بجا خط

بہرام جی