گھر بھی ویرانہ لگے تازہ ہواؤں کے بغیر
باد خوش رنگ چلے دشت بھی گھر لگتا ہے
بخش لائلپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہمارے خواب چوری ہو گئے ہیں
ہمیں راتوں کو نیند آتی نہیں ہے
بخش لائلپوری
حصول منزل جاں کا ہنر نہیں آیا
وہ روشنی تھی کہ کچھ بھی نظر نہیں آیا
بخش لائلپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کبھی آنکھوں پہ کبھی سر پہ بٹھائے رکھنا
زندگی تلخ سہی دل سے لگائے رکھنا
بخش لائلپوری
ٹیگز:
| زندگی |
| 2 لائنیں شیری |
کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں ہے
پریشانی کی رت جاتی نہیں ہے
بخش لائلپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
وہی پتھر لگا ہے میرے سر پر
ازل سے جس کو سجدے کر رہا ہوں
بخش لائلپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
آئنہ میں ہے پھر وہی صورت
یوں ہی ہوتی ہے ترجمانی کیا
بکل دیو
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

