EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

گھر بھی ویرانہ لگے تازہ ہواؤں کے بغیر
باد خوش رنگ چلے دشت بھی گھر لگتا ہے

بخش لائلپوری




ہمارے خواب چوری ہو گئے ہیں
ہمیں راتوں کو نیند آتی نہیں ہے

بخش لائلپوری




حصول منزل جاں کا ہنر نہیں آیا
وہ روشنی تھی کہ کچھ بھی نظر نہیں آیا

بخش لائلپوری




کبھی آنکھوں پہ کبھی سر پہ بٹھائے رکھنا
زندگی تلخ سہی دل سے لگائے رکھنا

بخش لائلپوری




کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں ہے
پریشانی کی رت جاتی نہیں ہے

بخش لائلپوری




وہی پتھر لگا ہے میرے سر پر
ازل سے جس کو سجدے کر رہا ہوں

بخش لائلپوری




آئنہ میں ہے پھر وہی صورت
یوں ہی ہوتی ہے ترجمانی کیا

بکل دیو