EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کشش تجھ سی نہ تھی تیرے غموں میں
لب و لہجہ مگر ہاں ہو بہ ہو تھا

بکل دیو




خواب ندی سا گزر جائے گا
دشت آنکھوں میں ٹھہر جانا ہے

بکل دیو




میں سارے فاصلے طے کر چکا ہوں
خودی جو درمیاں تھی درمیاں ہے

بکل دیو




ملے اب کے تو روئے ٹوٹ کر ہم
گناہ اپنی سزا کے رو بہ رو تھا

بکل دیو




مسکرانے کا فن تو بعد کا ہے
پہلے ساعت کا انتخاب کرو

بکل دیو




سمت دنیا کے ہم گئے ہی نہیں
اس علاقے سے دشمنی سی رہی

بکل دیو




سمندر ہے کوئی آنکھوں میں شاید
کناروں پر چمکتے ہیں گہر سے

بکل دیو