EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

شام اتری ہے پھر احاطے میں
جسم پر روشنی کے گھاؤ لیے

بکل دیو




تعلق ترک تو کر لیں سبھی سے
بھلے لگتے ہیں کچھ نقصان لیکن

بکل دیو




اتر جاتا تو رسوائی بہت ہوتی
کہ سر کا بوجھ بھی دستار جیسا تھا

بکل دیو




وہی آنسو وہی ماضی کے قصے
جسے دیکھو کٹے کو کاٹتا ہے

بکل دیو




زیر لب رکھ چھپا کے نام اس کا
لفظ ہوتے ہیں کچھ بیاں سے خراب

بکل دیو




ایسی ہونے لگی تھکن اس کو
دن کے ڈھلتے ہی سو گیا رستہ

بلوان سنگھ آذر




چلوں گا کب تلک تنہا سفر میں
مجھے ملتا نہیں ہے کارواں کیوں

بلوان سنگھ آذر