EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

رشتۂ الفت رگ جاں میں بتوں کا پڑ گیا
اب بظاہر شغل ہے زنار کا فعل عبث

بہرام جی




یار کو ہم نے برملا دیکھا
آشکارا کہیں چھپا دیکھا

بہرام جی




زاہدا کعبے کو جاتا ہے تو کر یاد خدا
پھر جہازوں میں خیال ناخدا کرتا ہے کیوں

بہرام جی




ظاہری وعظ سے ہے کیا حاصل
اپنے باطن کو صاف کر واعظ

بہرام جی




دھوپ بڑھتے ہی جدا ہو جائے گا
سایۂ دیوار بھی دیوار سے

بہرام طارق




اہل زر نے دیکھ کر کم ظرفئ اہل قلم
حرص زر کے ہر ترازو میں سخن ور رکھ دیے

بخش لائلپوری




درد ہجرت کے ستائے ہوئے لوگوں کو کہیں
سایۂ در بھی نظر آئے تو گھر لگتا ہے

بخش لائلپوری