EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تو بات نہیں سنتا یہی حل ہے پھر اس کا
جھگڑے کے لیے وقت نکالیں کوئی ہم بھی

ازلان شاہ




یہ خزانے کا کوئی سانپ بنا ہوتا ہے
آدمی عشق میں دنیا سے برا ہوتا ہے

ازلان شاہ




آمادگی کو وصل سے مشروط مت سمجھ
یہ دیکھ اس سوال پہ سنجیدہ کون ہے

عزم بہزاد




اے خواب پذیرائی تو کیوں مری آنکھوں میں
اندیشۂ دنیا کی تعبیر اٹھا لایا

عزم بہزاد




عجب محفل ہے سب اک دوسرے پر ہنس رہے ہیں
عجب تنہائی ہے خلوت کی خلوت رو رہی ہے

عزم بہزاد




دریا پار اترنے والے یہ بھی جان نہیں پائے
کسے کنارے پر لے ڈوبا پار اتر جانے کا غم

عزم بہزاد




کل سامنے منزل تھی پیچھے مری آوازیں
چلتا تو بچھڑ جاتا رکتا تو سفر جاتا

عزم بہزاد