EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں کسی آنکھ سے چھلکا ہوا آنسو ہوں نبیلؔ
میری تائید ہی کیا میری بغاوت کیسی

عزیز نبیل




مسافروں سے کہو اپنی پیاس باندھ رکھیں
سفر کی روح میں صحرا کوئی اتر چکا ہے

عزیز نبیل




نہ جانے کیسی محرومی پس رفتار چلتی ہے
ہمیشہ میرے آگے آگے اک دیوار چلتی ہے

عزیز نبیل




نبیلؔ ایسا کرو تم بھی بھول جاؤ اسے
وہ شخص اپنی ہر اک بات سے مکر چکا ہے

عزیز نبیل




نبیلؔ اس عشق میں تم جیت بھی جاؤ تو کیا ہوگا
یہ ایسی جیت ہے پہلو میں جس کے ہار چلتی ہے

عزیز نبیل




پھر نئے سال کی سرحد پہ کھڑے ہیں ہم لوگ
راکھ ہو جائے گا یہ سال بھی حیرت کیسی

عزیز نبیل




سارے سپنے باندھ رکھے ہیں گٹھری میں
یہ گٹھری بھی اوروں میں بٹ جائے گی

عزیز نبیل