EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تمام شہر کو تاریکیوں سے شکوہ ہے
مگر چراغ کی بیعت سے خوف آتا ہے

عزیز نبیل




وہ ایک راز! جو مدت سے راز تھا ہی نہیں
اس ایک راز سے پردہ اٹھا دیا گیا ہے

عزیز نبیل




آہ بے اثر نکلی نالہ نارسا نکلا
اک خدا پہ تکیہ تھا وہ بھی آپ کا نکلا

عزیز قیسی




اب تو فقط بدن کی مروت ہے درمیاں
تھا ربط جان و دل تو شروعات ہی میں تھا

عزیز قیسی




عجیب شہر ہے گھر بھی ہیں راستوں کی طرح
کسے نصیب ہے راتوں کو چھپ کے رونا بھی

عزیز قیسی




چل قیسیؔ میلے میں چل کیا رونا تنہائی کا
کوئی نہیں جب تیرا میرا سب میرے سب تیرے

عزیز قیسی




دلوں کا خوں کرو سالم رکھو گریباں کو
جنوں کی رسم زمانہ ہوا اٹھا دی ہے

عزیز قیسی