EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

غم حیات و غم دوست کی کشاکش میں
ہم ایسے لوگ تو رنج و ملال سے بھی گئے

عزیز حامد مدنی




حسن کی شرط وفا جو ٹھہری تیشہ و سنگ گراں کی بات
ہم ہوں یا فرہاد ہو آخر عاشق تو مزدور رہا

عزیز حامد مدنی




جب آئی ساعت بے تاب تیری بے لباسی کی
تو آئینے میں جتنے زاویے تھے رہ گئے جل کر

عزیز حامد مدنی




جو بات دل میں تھی اس سے نہیں کہی ہم نے
وفا کے نام سے وہ بھی فریب کھا جاتا

عزیز حامد مدنی




کاذب صحافتوں کی بجھی راکھ کے تلے
جھلسا ہوا ملے گا ورق در ورق ادب

عزیز حامد مدنی




کہہ سکتے تو احوال جہاں تم سے ہی کہتے
تم سے تو کسی بات کا پردا بھی نہیں تھا

عزیز حامد مدنی




خلل پذیر ہوا ربط مہر و ماہ میں وقت
بتا یہ تجھ سے جدائی کا وقت ہے کہ نہیں

عزیز حامد مدنی