طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش
ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں
عزیز حامد مدنی
طلسم شیوۂ یاراں کھلا تو کچھ نہ ہوا
کبھی یہ حبس دل و جاں کھلے تو بات چلے
عزیز حامد مدنی
ان کو اے نرم ہوا خواب جنوں سے نہ جگا
رات مے خانے کی آئے ہیں گزارے ہوئے لوگ
عزیز حامد مدنی
وفا کی رات کوئی اتفاق تھی لیکن
پکارتے ہیں مسافر کو سائباں کیا کیا
عزیز حامد مدنی
وقت ہی وہ خط فاصل ہے کہ اے ہم نفسو
دور ہے موج بلا اور کنارے ہوئے لوگ
عزیز حامد مدنی
وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے
گئے تو کیا تری بزم خیال سے بھی گئے
عزیز حامد مدنی
زہر کا جام ہی دے زہر بھی ہے آب حیات
خشک سالی کی تو ہو جائے تلافی ساقی
عزیز حامد مدنی

