EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

الگ سیاست درباں سے دل میں ہے اک بات
یہ وقت میری رسائی کا وقت ہے کہ نہیں

عزیز حامد مدنی




بہار چاک گریباں میں ٹھہر جاتی ہے
جنوں کی موج کوئی آستیں میں ہوتی ہے

عزیز حامد مدنی




بیٹھو جی کا بوجھ اتاریں دونوں وقت یہیں ملتے ہیں
دور دور سے آنے والے رستے کہیں کہیں ملتے ہیں

عزیز حامد مدنی




دلوں کی عقدہ کشائی کا وقت ہے کہ نہیں
یہ آدمی کی خدائی کا وقت ہے کہ نہیں

عزیز حامد مدنی




دو گز زمیں فریب وطن کے لیے ملی
ویسے تو آسماں بھی بہت ہیں زمیں بہت

عزیز حامد مدنی




ایک طرف روئے جاناں تھا جلتی آنکھ میں ایک طرف
سیاروں کی راکھ میں ملتی رات تھی اک بے داری کی

عزیز حامد مدنی




گہرے سرخ گلاب کا اندھا بلبل سانپ کو کیا دیکھے گا
پاس ہی اگتی ناگ پھنی تھی سارے پھول وہیں ملتے ہیں

عزیز حامد مدنی