خدا کا شکر ہے تو نے بھی مان لی مری بات
رفو پرانے دکھوں پر نہیں کیا جاتا
عزیز حامد مدنی
کھلا یہ دل پہ کہ تعمیر بام و در ہے فریب
بگولے قالب دیوار و در میں ہوتے ہیں
عزیز حامد مدنی
خوں ہوا دل کہ پشیمان صداقت ہے وفا
خوش ہوا جی کہ چلو آج تمہارے ہوئے لوگ
عزیز حامد مدنی
کچھ اب کے ہم بھی کہیں اس کی داستان وصال
مگر وہ زلف پریشاں کھلے تو بات چلے
عزیز حامد مدنی
مانا کہ زندگی میں ہے ضد کا بھی ایک مقام
تم آدمی ہو بات تو سن لو خدا نہیں
عزیز حامد مدنی
مہک میں زہر کی اک لہر بھی خوابیدہ رہتی ہے
ضدیں آپس میں ٹکراتی ہیں فرق مار و صندل کر
عزیز حامد مدنی
میری وفا ہے اس کی اداسی کا ایک باب
مدت ہوئی ہے جس سے مجھے اب ملے ہوئے
عزیز حامد مدنی

