مرا چاک گریباں چاک دل سے ملنے والا ہے
مگر یہ حادثے بھی بیش و کم ہوتے ہی رہتے ہیں
عزیز حامد مدنی
مبہم سے ایک خواب کی تعبیر کا ہے شوق
نیندوں میں بادلوں کا سفر تیز ابھی سے ہے
عزیز حامد مدنی
نرمی ہوا کی موج طرب خیز ابھی سے ہے
اے ہم صفیر آتش گل تیز ابھی سے ہے
عزیز حامد مدنی
صدیوں میں جا کے بنتا ہے آخر مزاج دہر
مدنیؔ کوئی تغیر عالم ہے بے سبب
عزیز حامد مدنی
شہر جن کے نام سے زندہ تھا وہ سب اٹھ گئے
اک اشارے سے طلب کرتا ہے ویرانہ مجھے
عزیز حامد مدنی
صبح سے چلتے چلتے آخر شام ہوئی آوارۂ دل
اب میں کس منزل میں پہنچا اب گھر کتنی دور رہا
عزیز حامد مدنی
سلگ رہا ہے افق بجھ رہی ہے آتش مہر
رموز ربط گریزاں کھلے تو بات چلے
عزیز حامد مدنی

