EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

عشق میں یہ تفرقہ بازی بہت معیوب ہے
پیار کو شیعہ وہابی اور سنی مت سمجھ

عزیز فیصل




کتنی مزاحیہ ہے یہ بوتل کے جن کی بات
آقا اب انقلاب ہے دو چار دن کی بات

عزیز فیصل




کودے ہیں اس کے صحن میں دو چار شیر دل
ہم فیس بک کی وال سے آگے نہیں گئے

عزیز فیصل




میں ایک بوری میں لایا ہوں بھر کے مونگ پھلی
کسی کے ساتھ دسمبر کی رات کاٹنی ہے

عزیز فیصل




مورخ لکھ نہ دیں سقراط مجھ کو
میں لسی کا پیالہ پی رہا ہوں

عزیز فیصل




نہ یہ قانون کام آیا تھا رانجھے کے ذرا سا بھی
اسی کو بھینس ملتی ہے ہو جس کے ہاتھ میں لاٹھی

عزیز فیصل




تھکا ہارا نکل کر گھر سے اپنے
وہ پیر آفس میں سونے جا چکا ہے

عزیز فیصل