EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جوانوں میں تصادم کیسے رکتا
قبیلے میں کوئی بوڑھا نہیں تھا

اظہر عنایتی




کبھی قریب کبھی دور ہو کے روتے ہیں
محبتوں کے بھی موسم عجیب ہوتے ہیں

اظہر عنایتی




کرنے کو روشنی کے تعاقب کا تجربہ
کچھ دور میرے ساتھ بھی پرچھائیاں گئیں

اظہر عنایتی




خود کشی کے لیے تھوڑا سا یہ کافی ہے مگر
زندہ رہنے کو بہت زہر پیا جاتا ہے

اظہر عنایتی




کسی کے عیب چھپانا ثواب ہے لیکن
کبھی کبھی کوئی پردہ اٹھانا پڑتا ہے

اظہر عنایتی




کیا رہ گیا ہے شہر میں کھنڈرات کے سوا
کیا دیکھنے کو اب یہاں آئے ہوئے ہیں لوگ

اظہر عنایتی




لوگ یوں کہتے ہیں اپنے قصے
جیسے وہ شاہ جہاں تھے پہلے

اظہر عنایتی