جوانوں میں تصادم کیسے رکتا
قبیلے میں کوئی بوڑھا نہیں تھا
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کبھی قریب کبھی دور ہو کے روتے ہیں
محبتوں کے بھی موسم عجیب ہوتے ہیں
اظہر عنایتی
کرنے کو روشنی کے تعاقب کا تجربہ
کچھ دور میرے ساتھ بھی پرچھائیاں گئیں
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خود کشی کے لیے تھوڑا سا یہ کافی ہے مگر
زندہ رہنے کو بہت زہر پیا جاتا ہے
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کسی کے عیب چھپانا ثواب ہے لیکن
کبھی کبھی کوئی پردہ اٹھانا پڑتا ہے
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کیا رہ گیا ہے شہر میں کھنڈرات کے سوا
کیا دیکھنے کو اب یہاں آئے ہوئے ہیں لوگ
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
لوگ یوں کہتے ہیں اپنے قصے
جیسے وہ شاہ جہاں تھے پہلے
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

