EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں جسے ڈھونڈنے نکلا تھا اسے پا نہ سکا
اب جدھر جی ترا چاہے مجھے خوشبو لے جا

اظہر عنایتی




میری خاموشی پہ تھے جو طعنہ زن
شور میں اپنے ہی بہرے ہو گئے

اظہر عنایتی




مجھ کو بھی جاگنے کی اذیت سے دے نجات
اے رات اب تو گھر کے در و بام سو گئے

اظہر عنایتی




نقش مٹتے ہیں تو آتا ہے خیال
ریت پر ہم بھی کہاں تھے پہلے

اظہر عنایتی




پلٹ چلیں کہ غلط آ گئے ہمیں شاید
رئیس لوگوں سے ملنے کے وقت ہوتے ہیں

اظہر عنایتی




پرانے عہد میں بھی دشمنی تھی
مگر ماحول زہریلا نہیں تھا

اظہر عنایتی




سب دیکھ کر گزر گئے اک پل میں اور ہم
دیوار پر بنے ہوئے منظر میں کھو گئے

اظہر عنایتی