آج شہروں میں ہیں جتنے خطرے
جنگلوں میں بھی کہاں تھے پہلے
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اب مرے بعد کوئی سر بھی نہیں ہوگا طلوع
اب کسی سمت سے پتھر بھی نہیں آئے گا
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
عجب جنون ہے یہ انتقام کا جذبہ
شکست کھا کے وہ پانی میں زہر ڈال آیا
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| انٹیقام |
| 2 لائنیں شیری |
اپنی تصویر بناؤ گے تو ہوگا احساس
کتنا دشوار ہے خود کو کوئی چہرہ دینا
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| تصویر |
| 2 لائنیں شیری |
چوراہوں کا تو حسن بڑھا شہر کے مگر
جو لوگ نامور تھے وہ پتھر کے ہو گئے
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
غزل کا شعر تو ہوتا ہے بس کسی کے لیے
مگر ستم ہے کہ سب کو سنانا پڑتا ہے
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| شیر |
| 2 لائنیں شیری |
گھر سے کس طرح میں نکلوں کہ یہ مدھم سا چراغ
میں نہیں ہوں گا تو تنہائی میں بجھ جائے گا
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

