EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہم عصروں میں یہ چھیڑ چلی آئی ہے اظہرؔ
یاں ذوقؔ نے غالبؔ کو بھی غالب نہیں سمجھا

اظہر عنایتی




ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے
میں جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے

اظہر عنایتی




ہوا اجالا تو ہم ان کے نام بھول گئے
جو بجھ گئے ہیں چراغوں کی لو بڑھاتے ہوئے

اظہر عنایتی




اس کار آگہی کو جنوں کہہ رہے ہیں لوگ
محفوظ کر رہے ہیں فضا میں صدائیں ہم

اظہر عنایتی




اس راستے میں جب کوئی سایہ نہ پائے گا
یہ آخری درخت بہت یاد آئے گا

اظہر عنایتی




جہاں ضدیں کیا کرتا تھا بچپنا میرا
کہاں سے لاؤں کھلونوں کی ان دکانوں کو

اظہر عنایتی




جوان ہو گئی اک نسل سنتے سنتے غزل
ہم اور ہو گئے بوڑھے غزل سناتے ہوئے

اظہر عنایتی