ہم عصروں میں یہ چھیڑ چلی آئی ہے اظہرؔ
یاں ذوقؔ نے غالبؔ کو بھی غالب نہیں سمجھا
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے
میں جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے
اظہر عنایتی
ہوا اجالا تو ہم ان کے نام بھول گئے
جو بجھ گئے ہیں چراغوں کی لو بڑھاتے ہوئے
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اس کار آگہی کو جنوں کہہ رہے ہیں لوگ
محفوظ کر رہے ہیں فضا میں صدائیں ہم
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اس راستے میں جب کوئی سایہ نہ پائے گا
یہ آخری درخت بہت یاد آئے گا
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جہاں ضدیں کیا کرتا تھا بچپنا میرا
کہاں سے لاؤں کھلونوں کی ان دکانوں کو
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جوان ہو گئی اک نسل سنتے سنتے غزل
ہم اور ہو گئے بوڑھے غزل سناتے ہوئے
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

