EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ملتی ہے خوشی سب کو جیسے ہی کہیں سے بھی
بھولی ہوئی بچپن کی تصویر نکلتی ہے

اظہر ہاشمی




مرے وجود کا محور چمکتا رہتا ہے
اسی سند سے مقدر چمکتا رہتا ہے

اظہر ہاشمی




سجدے کا سبب جان کے شیریں ہے پریشاں
فرہاد نے کہہ ڈالا کے رب ڈھونڈ رہا ہوں

اظہر ہاشمی




اسی پہ صبر ہے مجھ کو ہر ایک دور یہاں
بہار آنے سے پہلے خزاں سے گزرا ہے

اظہر ہاشمی




یہ جو بے حال سا منظر یہ جو بیمار سے ہم تم
سیاست کی نوازش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں

اظہر ہاشمی




یہ تمنا ہے خدا عالم ہستی میں ترے
میں عیاں دیکھنا چاہوں تو نہاں تک دیکھوں

اظہر ہاشمی




آج بھی شام غم! اداس نہ ہو
مانگ کر میں چراغ لاتا ہوں

اظہر عنایتی