EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ الگ بات کہ میں نوح نہیں تھا لیکن
میں نے کشتی کو غلط سمت میں بہنے نہ دیا

اظہر عنایتی




یہ اور بات کہ آندھی ہمارے بس میں نہیں
مگر چراغ جلانا تو اختیار میں ہے

اظہر عنایتی




یہ بھی رہا ہے کوچۂ جاناں میں اپنا رنگ
آہٹ ہوئی تو چاند دریچے میں آ گیا

اظہر عنایتی




یہ مسخروں کو وظیفے یوں ہی نہیں ملتے
رئیس خود نہیں ہنستے ہنسانا پڑتا ہے

اظہر عنایتی




ایک مدت سے ہیں سفر میں ہم
گھر میں رہ کر بھی جیسے بے گھر سے

اظہر اقبال




گھٹن سی ہونے لگی اس کے پاس جاتے ہوئے
میں خود سے روٹھ گیا ہوں اسے مناتے ہوئے

اظہر اقبال




ہے اب بھی بستر جاں پر ترے بدن کی شکن
میں خود ہی مٹنے لگا ہوں اسے مٹاتے ہوئے

اظہر اقبال