EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سنبھل کے چلنے کا سارا غرور ٹوٹ گیا
اک ایسی بات کہی اس نے لڑکھڑاتے ہوئے

اظہر عنایتی




شکستگی میں بھی کیا شان ہے عمارت کی
کہ دیکھنے کو اسے سر اٹھانا پڑتا ہے

اظہر عنایتی




تاریخ بھی ہوں اتنے برس کی مورخو
چہرے پہ میرے جتنے برس کی یہ گرد ہے

اظہر عنایتی




ان کے بھی اپنے خواب تھے اپنی ضرورتیں
ہم سایے کا مگر وہ گلا کاٹتے رہے

اظہر عنایتی




وہ جس کے صحن میں کوئی گلاب کھل نہ سکا
تمام شہر کے بچوں سے پیار کرتا تھا

اظہر عنایتی




وہ تڑپ جائے اشارہ کوئی ایسا دینا
اس کو خط لکھنا تو میرا بھی حوالہ دینا

اظہر عنایتی




وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے
عوام تھکنے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

اظہر عنایتی