سنبھل کے چلنے کا سارا غرور ٹوٹ گیا
اک ایسی بات کہی اس نے لڑکھڑاتے ہوئے
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
شکستگی میں بھی کیا شان ہے عمارت کی
کہ دیکھنے کو اسے سر اٹھانا پڑتا ہے
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تاریخ بھی ہوں اتنے برس کی مورخو
چہرے پہ میرے جتنے برس کی یہ گرد ہے
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ان کے بھی اپنے خواب تھے اپنی ضرورتیں
ہم سایے کا مگر وہ گلا کاٹتے رہے
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
وہ جس کے صحن میں کوئی گلاب کھل نہ سکا
تمام شہر کے بچوں سے پیار کرتا تھا
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
وہ تڑپ جائے اشارہ کوئی ایسا دینا
اس کو خط لکھنا تو میرا بھی حوالہ دینا
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| خیٹ |
| 2 لائنیں شیری |
وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے
عوام تھکنے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
اظہر عنایتی
ٹیگز:
| سیاحت |
| 2 لائنیں شیری |

