EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ جو رہتے ہیں بہت موج میں شب بھر ہم لوگ
صبح ہوتے ہی کنارے پہ پڑے ہوتے ہیں

اظہر فراغ




یہ کچے سیب چبانے میں اتنے سہل نہیں
ہمارا صبر نہ کرنا بھی ایک ہمت ہے

اظہر فراغ




یہ خموشی مری خموشی ہے
اس کا مطلب مکالمہ لیا جائے

اظہر فراغ




یہ لوگ جا کے کٹی بوگیوں میں بیٹھ گئے
سمے کو ریل کی پٹری کے ساتھ چلنے دیا

اظہر فراغ




یہ نہیں دیکھتے کتنی ہے ریاضت کس کی
لوگ آسان سمجھ لیتے ہیں آسانی کو

اظہر فراغ




بس رنج کی ہے داستاں عنوان ہزاروں
جینے کے لئے مر گئے انسان ہزاروں

اظہر ہاشمی




دوام پائے گا اک روز حق زمانے میں
یہ انتظار نہیں انتظار وحشت ہے

اظہر ہاشمی