EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دیکھا نہیں جس نے مرے طوفاں کو سکوں میں
وہ شخص مری روح کے اندر نہیں اترا

اظہر ہاشمی




گمان کہتا ہے کے میں یقیں کا شاعر ہوں
یقین کہتا ہے کے میں گماں کا شاعر ہوں

اظہر ہاشمی




اتنی نہ انتشار کی حدت ہو روبرو
انساں غم حیات میں جلتا دکھائی دے

اظہر ہاشمی




جس خاک سے کہتے ہو وفا ہم نہیں کرتے
سوئے ہیں اسی خاک میں سلطان ہزاروں

اظہر ہاشمی




کہیں سراغ نہیں ہے کسی بھی قاتل کا
لہولہان مگر شہر کا نظارہ ہے

اظہر ہاشمی




خدا کی رضا ہے نہ حاصل کسی کو
خدا کے لیے پر لڑائی بہت ہے

اظہر ہاشمی




کوئی حیات زمانہ کو ہے عزیز بہت
کوئی حیات ہے کہ روز روز مرتی ہے

اظہر ہاشمی