EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ٹھہرنا بھی مرا جانا شمار ہونے لگا
پڑے پڑے میں پرانا شمار ہونے لگا

اظہر فراغ




اس سے ہم پوچھ تھوڑی سکتے ہیں
اس کی مرضی جہاں رکھے جس کو

اظہر فراغ




اسے کہو جو بلاتا ہے گہرے پانی میں
کنارے سے بندھی کشتی کا مسئلہ سمجھے

اظہر فراغ




ویسے تو ایمان ہے میرا ان بانہوں کی گنجائش پر
دیکھنا یہ ہے اس کشتی میں کتنا دریا آ جاتا ہے

اظہر فراغ




وصل کے ایک ہی جھونکے میں
کان سے بالے اتر گئے

اظہر فراغ




وہ دستیاب ہمیں اس لئے نہیں ہوتا
ہم استفادہ نہیں دیکھ بھال کرتے ہیں

اظہر فراغ




یہ اعتماد بھی میرا دیا ہوا ہے تمہیں
جو میرے مشورے بیکار جانے لگ گئے ہیں

اظہر فراغ