EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کچھ نہیں دے رہا سجھائی ہمیں
اس قدر روشنی کا کیا کیجے

اظہر فراغ




محسوس کر لیا تھا بھنور کی تھکان کو
یونہی تو خود کو رقص پہ مائل نہیں کیا

اظہر فراغ




میں جانتا ہوں مجھے مجھ سے مانگنے والے
پرائی چیز کا جو لوگ حال کرتے ہیں

اظہر فراغ




منظر شام غریباں ہے دم رخصت خواب
تعزیے کی طرح اٹھا ہے کوئی بستر سے

اظہر فراغ




میری نمو ہے تیرے تغافل سے وابستہ
کم بارش بھی مجھ کو کافی ہو سکتی ہے

اظہر فراغ




تیری شرطوں پہ ہی کرنا ہے اگر تجھ کو قبول
یہ سہولت تو مجھے سارا جہاں دیتا ہے

اظہر فراغ




تیز آندھی میں یہ بھی کافی ہے
پیڑ تصویر میں بچا لیا جائے

اظہر فراغ