کچھ نہیں دے رہا سجھائی ہمیں
اس قدر روشنی کا کیا کیجے
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
محسوس کر لیا تھا بھنور کی تھکان کو
یونہی تو خود کو رقص پہ مائل نہیں کیا
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں جانتا ہوں مجھے مجھ سے مانگنے والے
پرائی چیز کا جو لوگ حال کرتے ہیں
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
منظر شام غریباں ہے دم رخصت خواب
تعزیے کی طرح اٹھا ہے کوئی بستر سے
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میری نمو ہے تیرے تغافل سے وابستہ
کم بارش بھی مجھ کو کافی ہو سکتی ہے
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تیری شرطوں پہ ہی کرنا ہے اگر تجھ کو قبول
یہ سہولت تو مجھے سارا جہاں دیتا ہے
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تیز آندھی میں یہ بھی کافی ہے
پیڑ تصویر میں بچا لیا جائے
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

