چہرے ہیں کہ سو رنگ میں ہوتے ہیں نمایاں
آئینے مگر کوئی سیاست نہیں کرتے
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دلیلیں چھین کر میرے لبوں سے
وہ مجھ کو مجھ سے بہتر کاٹتا ہے
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
درد کا ذائقہ بتاؤں کیا
یہ علاقہ زباں سے باہر ہے
خورشید اکبر
ٹیگز:
| ڈار |
| 2 لائنیں شیری |
دل ہے کہ ترے پاؤں سے پازیب گری ہے
سنتا ہوں بہت دیر سے جھنکار کہیں کی
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دنیا کو روندنے کا ہنر جانتا ہوں میں
لیکن یہ سوچتا ہوں کہ دنیا کے بعد کیا
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
غیب کا ایسا پرندہ ہے زمیں پر انساں
آسمانوں کو جو شہ پر پہ اٹھائے ہوئے ہے
خورشید اکبر
ٹیگز:
| انسان |
| 2 لائنیں شیری |
غریبی کاٹنا آساں نہیں ہے
وہ ساری عمر پتھر کاٹتا ہے
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

