EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

چہرے ہیں کہ سو رنگ میں ہوتے ہیں نمایاں
آئینے مگر کوئی سیاست نہیں کرتے

خورشید اکبر




دلیلیں چھین کر میرے لبوں سے
وہ مجھ کو مجھ سے بہتر کاٹتا ہے

خورشید اکبر




درد کا ذائقہ بتاؤں کیا
یہ علاقہ زباں سے باہر ہے

خورشید اکبر




دل ہے کہ ترے پاؤں سے پازیب گری ہے
سنتا ہوں بہت دیر سے جھنکار کہیں کی

خورشید اکبر




دنیا کو روندنے کا ہنر جانتا ہوں میں
لیکن یہ سوچتا ہوں کہ دنیا کے بعد کیا

خورشید اکبر




غیب کا ایسا پرندہ ہے زمیں پر انساں
آسمانوں کو جو شہ پر پہ اٹھائے ہوئے ہے

خورشید اکبر




غریبی کاٹنا آساں نہیں ہے
وہ ساری عمر پتھر کاٹتا ہے

خورشید اکبر