ہم بھی ترے بیٹے ہیں ذرا دیکھ ہمیں بھی
اے خاک وطن تجھ سے شکایت نہیں کرتے
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جزیرے اگ رہے ہیں پانیوں میں
مگر پختہ کنارا جا رہا ہے
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جو دن ہے خاک بیاباں جو رات ہے جنگل
وہ بے پناہ مرے گھر سے ہے زیادہ کیا
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کشتی کی طرح تم مجھے دریا میں اتارو
میں بیچ بھنور میں تمہیں پتوار بناؤں
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خود سے لکھنے کا اختیار بھی دے
ورنہ قسمت کی تختیاں لے جا
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خدا کے غائبانے میں کسی دن
سنو کیا شہر سارا بولتا ہے
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
لہو تیور بدلتا ہے کہاں تک
مرا بیٹا سیانا ہو تو دیکھوں
خورشید اکبر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

