EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہم بھی ترے بیٹے ہیں ذرا دیکھ ہمیں بھی
اے خاک وطن تجھ سے شکایت نہیں کرتے

خورشید اکبر




جزیرے اگ رہے ہیں پانیوں میں
مگر پختہ کنارا جا رہا ہے

خورشید اکبر




جو دن ہے خاک بیاباں جو رات ہے جنگل
وہ بے پناہ مرے گھر سے ہے زیادہ کیا

خورشید اکبر




کشتی کی طرح تم مجھے دریا میں اتارو
میں بیچ بھنور میں تمہیں پتوار بناؤں

خورشید اکبر




خود سے لکھنے کا اختیار بھی دے
ورنہ قسمت کی تختیاں لے جا

خورشید اکبر




خدا کے غائبانے میں کسی دن
سنو کیا شہر سارا بولتا ہے

خورشید اکبر




لہو تیور بدلتا ہے کہاں تک
مرا بیٹا سیانا ہو تو دیکھوں

خورشید اکبر