EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

زیست کا اک گناہ کر سکے نہ ہم
سانس کے واسطے بھی مر سکے نہ ہم

خمار قریشی




تم میری مسافت کے لیے آخری حد ہو
اب تم سے پرے راہ گزر کوئی نہیں ہے

خرم خلیق




آمد کا تری جب کوئی امکان نہیں ہے
کب تک دل بے تاب یوں ہی تھام رکھیں ہم

خرم خرام صدیقی




آتے آتے آئے گی دنیا داری
جاتے جاتے فاقہ مستی جائے گی

خورشید اکبر




اے شہر ستم زاد تری عمر بڑی ہو
کچھ اور بتا نقل مکانی کے علاوہ

خورشید اکبر




بڑی بھولی ہے خرچیلی ضرورت
شہنشاہی کمائی مانگتی ہے

خورشید اکبر




بدن میں سانس لیتا ہے سمندر
مری کشتی ہوا پر چل رہی ہے

خورشید اکبر