EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

عبث دل بے کسی پہ اپنی اپنی ہر وقت روتا ہے
نہ کر غم اے دوانے عشق میں ایسا ہی ہوتا ہے

خاں آرزو سراج الدین علی




جان تجھ پر کچھ اعتماد نہیں
زندگانی کا کیا بھروسا ہے

خاں آرزو سراج الدین علی




خود اپنے دل کی صدا تیری دستکوں سی لگی
گماں میں تھا تیرا آنا قیاس ایسا تھا

خان محمد خلیل




پہلے تو چند لوگ طرفدار تھے مرے
پھر وہ بھی وقت تھا کہ خدا بھی اسی کا تھا

خان محمد خلیل




تم اپنی آستیں گر دھو بھی لو گے
پکار اٹھے گا خنجر دیکھ لینا

خان محمد خلیل




یہ خد و خال یہ گیسو یہ صورت زیبا
سبھی کا حسن ہے اپنی جگہ مگر آنکھیں

خان رضوان




میں سناتا رہا دکھڑے خاورؔ
اور روتی رہی شب بھر دیوار

خاقان خاور