تری صدا کا ہے صدیوں سے انتظار مجھے
مرے لہو کے سمندر ذرا پکار مجھے
خلیلؔ الرحمن اعظمی
تری وفا میں ملی آرزوئے موت مجھے
جو موت مل گئی ہوتی تو کوئی بات بھی تھی
خلیلؔ الرحمن اعظمی
تم مجھے چاہو نہ چاہو لیکن اتنا تو کرو
جھوٹ ہی کہہ دو کہ جینے کا بہانہ مل سکے
خلیلؔ الرحمن اعظمی
یہیں پر دفن کر دو اس گلی سے اب کہاں جاؤں
کہ میرے پاس جو کچھ تھا یہیں آ کر لٹایا ہے
خلیلؔ الرحمن اعظمی
یہ اور بات کہ ترک وفا پہ مائل ہیں
تری وفا کی ہمیں آج بھی ضرورت ہے
خلیلؔ الرحمن اعظمی
یہ سچ ہے آج بھی ہے مجھے زندگی عزیز
لیکن جو تم ملو تو یہ سودا گراں نہیں
خلیلؔ الرحمن اعظمی
یہ تمنا نہیں اب داد ہنر دے کوئی
آ کے مجھ کو مرے ہونے کی خبر دے کوئی
خلیلؔ الرحمن اعظمی

