یوں جی بہل گیا ہے تری یاد سے مگر
تیرا خیال تیرے برابر نہ ہو سکا
خلیلؔ الرحمن اعظمی
یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیں
زندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے
خلیلؔ الرحمن اعظمی
زہر پی کر بھی یہاں کس کو ملی غم سے نجات
ختم ہوتا ہے کہیں سلسلۂ رقص حیات
خلیلؔ الرحمن اعظمی
ذرا جو تیز چلے تو کوئی بھی ساتھ نہ تھا
حصار فکر ہی بس اپنا پاسبان ہوا
خلیلؔ الرحمن اعظمی
زندگی بھی مرے نالوں کی شناسا نکلی
دل جو ٹوٹا تو مرے گھر میں کوئی شمع جلی
خلیلؔ الرحمن اعظمی
یہاں تو چاروں طرف قتل ہو رہے ہیں لوگ
میں کیسے دوں گا اکیلا شہادتیں سب کی
خلش بڑودوی
شکوہ اپنوں سے کیا جاتا ہے غیروں سے نہیں
آپ کہہ دیں تو کبھی آپ سے شکوہ نہ کریں
خلش کلکتوی

