EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

خارؔ الفت کی بات جانے دو
زندگی کس کو سازگار آئی

خار دہلوی




میں نے مانا کہ عدو بھی ترا شیدائی ہے
فرق ہوتا ہے فدا ہونے میں مر جانے میں

خار دہلوی




محبت زلف کا آسیب جادو ہے نگاہوں کا
محبت فتنۂ محشر بلائے ناگہانی ہے

خار دہلوی




سچ تو یہ ہے کہ دعا نے نہ دوا نے رکھا
ہم کو زندہ ترے دامن کی ہوا نے رکھا

خار دہلوی




اٹھے نہ بیٹھ کر کبھی کوئے حبیب سے
اس در پے کیا گئے کہ اسی در کے ہو گئے

خار دہلوی




یہ نگری حسن والوں کی عجب نگری ہے اے ہم دم
کہ اس نگری میں آہوں کی بھی تاثیریں بدلتی ہیں

خار دہلوی




ایک ایک کر کے لوگ نکل آئے دھوپ میں
جلنے لگے تھے جیسے سبھی گھر کی چھاؤں میں

خاطر غزنوی