EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ترے ستم کی زمانہ دہائی دیتا ہے
کبھی یہ شور تجھے بھی سنائی دیتا ہے

خاقان خاور




وہ سنور سکتا ہے معقول بھی ہو سکتا ہے
میرا اندازہ مری بھول بھی ہو سکتا ہے

خاقان خاور




یہ رنگ رنگ پرندے ہی ہم سے اچھے ہیں
جو اک درخت پہ رہتے ہیں بیلیوں کی طرح

خاقان خاور




یوں ہراساں ہیں مسافر بستیوں کے درمیاں
ہو گئی ہو شام جیسے جنگلوں کے درمیاں

خاقان خاور




برہمی حسن کو کچھ اور جلا دیتی ہے
وہ جمالی تیرا چہرہ وہ جلالی آنکھیں

خار دہلوی




چشم گریاں کی آبیاری سے
دل کے داغوں پہ پھر بہار آئی

خار دہلوی




چپکے سے سہہ رہا ہوں ستم تیرے بے وفا
میری خطا تو جب ہو کہ چوں کر رہا ہوں میں

خار دہلوی