نہیں اب کوئی خواب ایسا تری صورت جو دکھلائے
بچھڑ کر تجھ سے کس منزل پر ہم تنہا چلے آئے
خلیلؔ الرحمن اعظمی
نگاہ مہرباں اٹھتی تو ہے سب کی طرف لیکن
نہیں واقف ابھی سب لوگ رمز آشنائی سے
خلیلؔ الرحمن اعظمی
نکالے گئے اس کے معنی ہزار
عجب چیز تھی اک مری خامشی
خلیلؔ الرحمن اعظمی
سنا رہا ہوں انہیں جھوٹ موٹ اک قصہ
کہ ایک شخص محبت میں کامیاب رہا
خلیلؔ الرحمن اعظمی
تمام یادیں مہک رہی ہیں ہر ایک غنچہ کھلا ہوا ہے
زمانہ بیتا مگر گماں ہے کہ آج ہی وہ جدا ہوا ہے
خلیلؔ الرحمن اعظمی
تیرے نہ ہو سکے تو کسی کے نہ ہو سکے
یہ کاروبار شوق مکرر نہ ہو سکا
خلیلؔ الرحمن اعظمی
تیری گلی سے چھٹ کے نہ جائے اماں ملی
اب کے تو میرا گھر بھی مرا گھر نہ ہو سکا
خلیلؔ الرحمن اعظمی

