ہم نے تو خود کو بھی مٹا ڈالا
تم نے تو صرف بے وفائی کی
خلیلؔ الرحمن اعظمی
ہم پہ جو گزری ہے بس اس کو رقم کرتے ہیں
آپ بیتی کہو یا مرثیہ خوانی کہہ لو
خلیلؔ الرحمن اعظمی
ہم سا ملے کوئی تو کہیں اس سے حال دل
ہم بن گئے زمانے میں کیوں اپنی ہی مثال
خلیلؔ الرحمن اعظمی
ہمارے بعد اس مرگ جواں کو کون سمجھے گا
ارادہ ہے کہ اپنا مرثیہ بھی آپ ہی لکھ لیں
خلیلؔ الرحمن اعظمی
ہمیں تو راس نہ آئی کسی کی محفل بھی
کوئی خدا کوئی ہم سایۂ خدا نکلا
خلیلؔ الرحمن اعظمی
ہر ایک لے میری اکھڑی اکھڑی سی دل کا ہر تار جیسے زخمی
یہ کون سی آگ جل رہی ہے یہ میری گیتوں کو کیا ہوا ہے
خلیلؔ الرحمن اعظمی
ہزار طرح کی مے پی ہزار طرح کے زہر
نہ پیاس ہی بجھی اپنی نہ حوصلہ نکلا
خلیلؔ الرحمن اعظمی

