EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

زخم رسنے لگا ہے پھر شاید
یاد اس نے کیا ہے پھر شاید

خالد شریف




بہت تنہا ہے وہ اونچی حویلی
مرے گاؤں کے ان کچے گھروں میں

خالد صدیقی




بے کار ہے بے معنی ہے اخبار کی سرخی
لکھا ہے جو دیوار پہ وہ غور طلب ہے

خالد صدیقی




اک اور کھیت پکی سڑک نے نگل لیا
اک اور گاؤں شہر کی وسعت میں کھو گیا

خالد صدیقی




جو آنکھ کی پتلی میں رہا نور کی صورت
وہ شخص مرے گھر کے اندھیرے کا سبب ہے

خالد صدیقی




یہ کیسی ہجرتیں ہیں موسموں میں
پرندے بھی نہیں ہیں گھونسلوں میں

خالد صدیقی




یوں اگر گھٹتے رہے انساں تو خالدؔ دیکھنا
اس زمیں پر بس خدا کی بستیاں رہ جائیں گی

خالد صدیقی