EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کون سی دنیا میں ہوں کس کی نگہبانی میں ہوں
زندگی ہے سخت مشکل پھر بھی آسانی میں ہوں

کوثر مظہری




میں سب کے واسطے اچھا تھا لیکن
اسی کے واسطے اچھا نہیں تھا

کوثر مظہری




موسم دل جو کبھی زرد سا ہونے لگ جائے
اپنا دل خون کرو پھول اگانے لگ جاؤ

کوثر مظہری




نظر جھک رہی ہے خموشی ہے لب پر
حیا ہے ادا ہے کہ ان بن ہے کیا ہے

کوثر مظہری




پتلیوں پر رقص کرنا ہی کمال فن نہیں
درد کے آنسو کو تو پیہم روانی چاہئے

کوثر مظہری




ربط ہے اس کو زمانے سے بہت سنتا ہوں
کوئی ترکیب کروں میں بھی زمانہ ہو جاؤں

کوثر مظہری




تعاقب میں ہے میرے یاد کس کی
میں کس کو بھول جانا چاہتا ہوں

کوثر مظہری