EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہ عرض غم پہ مری ان کا اہتمام سکوت
تمام شورش تفصیل واقعات گئی

کوثر جائسی




یہ آرزو کے ستارے یہ انتظار کے پھول
چمک رہی ہیں خطائیں مہک رہے ہیں گناہ

کوثر جائسی




بوجھ دل پر ہے ندامت کا تو ایسا کر لو
میرے سینے سے کسی اور بہانے لگ جاؤ

کوثر مظہری




چاند ہے پانی میں یا بھولے ہوئے چہرے کا عکس
ساحل دریا پہ دیکھو میں بھی حیرانی میں ہوں

کوثر مظہری




ایک مدت سے خموشی کا ہے پہرہ ہر سو
جانے کس اور گئے شور مچانے والے

کوثر مظہری




گرا تھا بوجھ کوئی سر سے میرے
اسی کو پھر اٹھانا چاہتا ہوں

کوثر مظہری




جانے کس خواب پریشاں کا ہے چکر سارا
بکھرا بکھرا ہوا رہتا ہے مرا گھر سارا

کوثر مظہری