EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اپنے غم کی فکر نہ کی اس دنیا کی غم خواری میں
برسوں ہم نے دست جنوں سے کام لیا دانائی کا

کوثر جائسی




چھلک اٹھا جو کبھی خون آرزو میرا
مژہ مژہ تری رعنائیوں کی بات گئی

کوثر جائسی




غم نیرنگ دکھاتا ہے ہستی کی جلوہ نمائی کا
کتنے زمانوں کا حاصل ہے اک لمحہ تنہائی کا

کوثر جائسی




کبھی کبھی سفر زندگی سے روٹھ کے ہم
ترے خیال کے سائے میں بیٹھ جاتے ہیں

کوثر جائسی




خواب دیکھا تھا کہاں چمکی ہے تعبیر کہاں
حشر کا دن مری فطرت کا اجالا نکلا

کوثر جائسی




تخلیق کے پردے میں ستم ٹوٹ رہے ہیں
آزر ہی کے ہاتھوں سے صنم ٹوٹ رہے ہیں

کوثر جائسی




تھی نظر کے سامنے کچھ تو تلافی کی امید
کھیت سوکھا تھا مگر دریا میں طغیانی تو تھی

کوثر جائسی