EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس کی پلکوں پہ جو چمکا تھا ستارہ کوئی
دیکھتے دیکھتے مہتاب ہوا جاتا ہے

کوثر مظہری




وہی قطرہ جو کبھی کنج سر چشم میں تھا
اب جو پھیلا ہے تو سیلاب ہوا جاتا ہے

کوثر مظہری




اے مسیحا کبھی تو بھی تو اسے دیکھنے آ
تیرے بیمار کو سنتے ہیں کہ آرام نہیں

کوثر نیازی




اپنے وحشت زدہ کمرے کی اک الماری میں
تیری تصویر عقیدت سے سجا رکھی ہے

کوثر نیازی




بر سر عام اقرار اگر نا ممکن ہے تو یوں ہی سہی
کم از کم ادراک تو کر لے گن بے شک مت مان مرے

کوثر نیازی




بے سبب آج آنکھ پر نم ہے
جانے کس بات کا مجھے غم ہے

کوثر نیازی




چند لمحوں کے لیے ایک ملاقات رہی
پھر نہ وہ تو نہ وہ میں اور نہ وہ رات رہی

کوثر نیازی