اس کی پلکوں پہ جو چمکا تھا ستارہ کوئی
دیکھتے دیکھتے مہتاب ہوا جاتا ہے
کوثر مظہری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
وہی قطرہ جو کبھی کنج سر چشم میں تھا
اب جو پھیلا ہے تو سیلاب ہوا جاتا ہے
کوثر مظہری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اے مسیحا کبھی تو بھی تو اسے دیکھنے آ
تیرے بیمار کو سنتے ہیں کہ آرام نہیں
کوثر نیازی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اپنے وحشت زدہ کمرے کی اک الماری میں
تیری تصویر عقیدت سے سجا رکھی ہے
کوثر نیازی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بر سر عام اقرار اگر نا ممکن ہے تو یوں ہی سہی
کم از کم ادراک تو کر لے گن بے شک مت مان مرے
کوثر نیازی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بے سبب آج آنکھ پر نم ہے
جانے کس بات کا مجھے غم ہے
کوثر نیازی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
چند لمحوں کے لیے ایک ملاقات رہی
پھر نہ وہ تو نہ وہ میں اور نہ وہ رات رہی
کوثر نیازی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

