EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تیرا خیال تیری تمنا تک آ گیا
میں دل کو ڈھونڈھتا ہوا دنیا تک آ گیا

کاشف حسین غائر




یہ ہوا یوں ہی خاک چھانتی ہے
یا کوئی چیز کھو گئی ہے یہاں

کاشف حسین غائر




زمیں آباد ہوتی جا رہی ہے
کہاں جائے گی تنہائی ہماری

کاشف حسین غائر




زندگی دھوپ میں آنے سے کھلی
سایہ دیوار اٹھانے سے کھلا

کاشف حسین غائر




زندگی میں کسک ضروری تھی
یہ خلا پر تری کمی سے ہوا

کاشف حسین غائر




ہوائے کوچۂ دنیا میں جانتا ہوں تجھے
تو جب بھی آتی ہے بیمار کرنے آتی ہے

کاشف مجید




آؤ ہم ہنستے اٹھیں بزم دل آزاراں سے
کون احساس کو بیمار بنا کر اٹھے

کوثر جائسی