حال دل اس کو سنا کر ہے بہت خوش کوثرؔ
لیکن اب سوچ ذرا کیا تری اوقات رہی
کوثر نیازی
ہر مرحلۂ غم میں ملی اس سے تسلی
ہر موڑ پہ گھبرا کے ترا نام لیا ہے
کوثر نیازی
جذبات میں آ کر مرنا تو مشکل سی کوئی مشکل ہی نہیں
اے جان جہاں ہم تیرے لیے جینا بھی گوارا کرتے ہیں
کوثر نیازی
منجدھار میں ناؤ ڈوب گئی تو موجوں سے آواز آئی
دریائے محبت سے کوثرؔ یوں پار اتارا کرتے ہیں
کوثر نیازی
میں نے ہر گام اسے اول و آخر جانا
لیکن اس نے مجھے لمحوں کا مسافر جانا
کوثر نیازی
پرکھنے والے مجھے دیکھ اس طرح بھی ذرا
اگر ہے کھوٹ تو کیسے چمک رہا ہوں میں
کوثر نیازی
تباہی کی گھڑی شاید زمانے پر نہیں آئی
ابھی اپنے کئے پر آدمی شرما ہی جاتا ہے
کوثر نیازی

