EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہ میری فہم کا لیتا ہے امتحاں شاید
کہ ہر سوال سے پہلے جواب مانگے ہے

کرامت علی کرامت




ایام مصیبت کے تو کاٹے نہیں کٹتے
دن عیش کے گھڑیوں میں گزر جاتے ہیں کیسے

کرامت علی شہیدی




جی چاہے گا جس کو اسے چاہا نہ کریں گے
ہم عشق و ہوس کو کبھی یکجا نہ کریں گے

کرامت علی شہیدی




سیکھ لے ہم سے کوئی ضبط جنوں کے انداز
برسوں پابند رہے پر نہ ہلائی زنجیر

کرامت علی شہیدی




آہ تو اب بھی دل سے اٹھتی ہے
لیکن اس میں اثر نہیں ہوتا

کرامت بخاری




ایک نظر میں اس نے ہر اک دل کو جیت لیا
ایک نظر میں اس کے ہو گئے جانے کتنے لوگ

کرامت بخاری




گواہی کے لیے کافی رہے گا
میں اپنا خون منہ پہ مل رہا ہوں

کرامت بخاری