EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہم کو بھی سر کوئی درکار ہے اب سر کے عوض
پتھر اک ہم بھی چلا دیتے ہیں پتھر کے عوض

کرار نوری




کون ہو سکتا ہے آنے والا
ایک آواز سی آئی تھی ابھی

کرار نوری




ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا
اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہو گئے

کرار نوری




آب حیواں کو مے سے کیا نسبت
پانی پانی ہے اور شراب شراب

کشفی ملتانی




کشفیؔ کو کوئی پوچھنے آئے تو دوستو
کہنا کہ چند شعر سنا کر چلے گئے

کشفی ملتانی




ناچتی ہے جب تو اپنے دل ربا انداز سے
آفریں کے نغمے اٹھتے ہیں دلوں کے ساز سے

کشفی ملتانی




تیری آنکھیں ہیں کہ آہوئے ختن کی آنکھیں
محو حیرت تھیں جوانان چمن کی آنکھیں

کشفی ملتانی