EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہر سوچ میں سنگین فضاؤں کا فسانہ
ہر فکر میں شامل ہوا تحریر کا ماتم

کرامت بخاری




میں کہ تیرے دھیان میں گم تھا
دنیا مجھ کو ڈھونڈھ رہی تھی

کرامت بخاری




مدت سے محبت کے سفر میں ہوں کرامتؔ
لیکن ابھی چاہت کے نگر تک نہیں پہنچا

کرامت بخاری




پرواز میں تھا امن کا معصوم پرندہ
سنتے ہیں کہ بے چارہ شجر تک نہیں پہنچا

کرامت بخاری




یاد نہ آنے کا وعدہ کر کے
وہ تو پہلے سے سوا یاد آیا

کرامت بخاری




یہ بادل غم کے موسم کے جو چھٹ جاتے تو اچھا تھا
یہ پھیلائے ہوئے منظر سمٹ جاتے تو اچھا تھا

کرامت بخاری




ضروری تو نہیں اک فصل گل ہو
جنوں کے اور بھی موسم بہت ہیں

کرامت بخاری