EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تھک تھک کے تری راہ میں یوں بیٹھ گیا ہوں
گویا کہ بس اب مجھ سے سفر ہو نہیں سکتا

کشفی ملتانی




زمانہ آیا کچھ ایسا کہ اب تو ہر گھر میں
لٹک رہی ہے مسرت نظیر کی تصویر

کشفی ملتانی




دھوپ سائے کی طرح پھیل گئی
ان درختوں کی دعا لینے سے

کاشف حسین غائر




ہمارے دل کی طرح شہر کے یہ رستے بھی
ہزار بھید چھپائے ہوئے سے لگتے ہیں

کاشف حسین غائر




ہماری زندگی پر موت بھی حیران ہے غائرؔ
نہ جانے کس نے یہ تاریخ پیدائش نکالی ہے

کاشف حسین غائر




اک دن دکھ کی شدت کم پڑ جاتی ہے
کیسی بھی ہو وحشت کم پڑ جاتی ہے

کاشف حسین غائر




ان ستاروں میں کہیں تم بھی ہو
ان نظاروں میں کہیں میں بھی ہوں

کاشف حسین غائر