EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

عشق کی دنیا میں کیا کیا ہم کو سوغاتیں ملیں
سونی صبحیں روتی شامیں جاگتی راتیں ملیں

کرم حیدرآبادی




واعظ خطا معاف کہ رندان مے کدہ
دل کے سوا کسی کا کہا مانتے نہیں

کرم حیدرآبادی




چبھ رہا تھا دل میں ہر دم کر رہا تھا بے قرار
اک اذیت ناک پہلو جو مری راحت میں تھا

کرامت علی کرامت




غم فراق کو سینے سے لگ کے سونے دو
شب طویل کی ہوگی سحر کبھی نہ کبھی

کرامت علی کرامت




غم ہستی بھلا کب معتبر ہو
محبت میں نہ جب تک آنکھ تر ہو

کرامت علی کرامت




ہمیشہ آگ کے دریا میں عشق کیوں اترے
کبھی تو حسن کو غرق عذاب ہونا تھا

کرامت علی کرامت




کوئی زمین ہے تو کوئی آسمان ہے
ہر شخص اپنی ذات میں اک داستان ہے

کرامت علی کرامت