EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کنولؔ خوشی کی ہوا کرتی ہے یونہی تکمیل
غم حیات کے ہر بحر بیکراں سے گزر

کنولؔ ڈبائیوی




کچھ بجھی بجھی سی ہے انجمن نہ جانے کیوں
زندگی میں پنہاں ہے اک چبھن نہ جانے کیوں

کنولؔ ڈبائیوی




زندگی گم نہ دوستی گم ہے
یہ حقیقت ہے آدمی گم ہے

کنولؔ ڈبائیوی




چند سانسوں کے لئے بکتی نہیں خودداری
زندگی ہاتھ پہ رکھی ہے اٹھا کر لے جا

کنول ضیائی




ہمارا دور اندھیروں کا دور ہے لیکن
ہمارے دور کی مٹھی میں آفتاب بھی ہے

کنول ضیائی




ہمارا خون کا رشتہ ہے سرحدوں کا نہیں
ہمارے خون میں گنگا بھی چناب بھی ہے

کنول ضیائی




جس میں چھپا ہوا ہو وجود گناہ و کفر
اس معتبر لباس پہ تیزاب ڈال دو

کنول ضیائی